سپیکرز
ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام
آنکھ میں خواب زمانے سے الگ رکھا ہے
آنکھ میں خواب زمانے سے الگ رکھا ہے عکس کو آئنہ خانے سے الگ رکھا ہے گھر میں گلدان سجائے ہیں تری آمد پر اور اک پھول بہانے سے الگ رکھا ہے کچھ ہوا میں بھی چلانے کے لئے رکھا جائے اس لیے تیر نشانے سے الگ رکھا ہے اس کے ہونٹوں کو نہیں آنکھ کو دی ہے ترجیح پیاس کو پیاس بجھانے سے الگ رکھا ہے غیر ممکن ہے کسی اور کے ہاتھ آ جائے وہ خزانہ جو خزانے سے الگ رکھا ہے اک ہوا سی کہیں باندھی ہے چھپانے کے لئے اک تماشا سا لگانے سے الگ رکھا ہے خواب ہی خواب میں تعمیر کیا ہے آزرؔ گھر کو بنیاد اٹھانے سے الگ رکھا ہے
نیند میں کھلتے ہوئے خواب کی عریانی پر
نیند میں کھلتے ہوئے خواب کی عریانی پر میں نے بوسہ دیا مہتاب کی پیشانی پر اس قبیلے میں کوئی عشق سے واقف ہی نہیں لوگ ہنستے ہیں مری چاک گریبانی پر نظر آتی ہے تجھ ایسوں کو شباہت اپنی میں نے تصویر بنائی تھی کبھی پانی پر ہم فقیروں کو اسی خاک سے نسبت ہے بہت ہم نہ بیٹھیں گے ترے تخت سلیمانی پر اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا میں پریشان ہوا جس کی پریشانی پر پاس ہے لفظ کی حرمت کا وگرنہ آزرؔ کوئی تمغہ تو نہیں ملتا غزل خوانی پر