دلاور علی آزر

اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)

28 December 2025

14سپیکرز
188لسنرز

سپیکرز

ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام

آنکھ میں خواب زمانے سے الگ رکھا ہے

آنکھ میں خواب زمانے سے الگ رکھا ہے عکس کو آئنہ خانے سے الگ رکھا ہے گھر میں گلدان سجائے ہیں تری آمد پر اور اک پھول بہانے سے الگ رکھا ہے کچھ ہوا میں بھی چلانے کے لئے رکھا جائے اس لیے تیر نشانے سے الگ رکھا ہے اس کے ہونٹوں کو نہیں آنکھ کو دی ہے ترجیح پیاس کو پیاس بجھانے سے الگ رکھا ہے غیر ممکن ہے کسی اور کے ہاتھ آ جائے وہ خزانہ جو خزانے سے الگ رکھا ہے اک ہوا سی کہیں باندھی ہے چھپانے کے لئے اک تماشا سا لگانے سے الگ رکھا ہے خواب ہی خواب میں تعمیر کیا ہے آزرؔ گھر کو بنیاد اٹھانے سے الگ رکھا ہے

— دلاور علی آزر

نیند میں کھلتے ہوئے خواب کی عریانی پر

نیند میں کھلتے ہوئے خواب کی عریانی پر میں نے بوسہ دیا مہتاب کی پیشانی پر اس قبیلے میں کوئی عشق سے واقف ہی نہیں لوگ ہنستے ہیں مری چاک گریبانی پر نظر آتی ہے تجھ ایسوں کو شباہت اپنی میں نے تصویر بنائی تھی کبھی پانی پر ہم فقیروں کو اسی خاک سے نسبت ہے بہت ہم نہ بیٹھیں گے ترے تخت سلیمانی پر اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا میں پریشان ہوا جس کی پریشانی پر پاس ہے لفظ کی حرمت کا وگرنہ آزرؔ کوئی تمغہ تو نہیں ملتا غزل خوانی پر

— دلاور علی آزر